Saturday, 18 March 2017

Sahar na ho ****


ٹھنڈا رہے دماغ جبیں تر بتر نہ ہو
ذکرِ علی کرو تو تمہیں دردِ سر نہ ہو
احمد نہ ہوں تو مذہبِ اسلام  ور نہ ہو
حیدر نہ ہوں تو جنگ میں فتح و ظفر نہ ہو
اعمال کے درخت پہ کوئی ثمر نہ ہو
دل میں ولائے فاطمہ زہرہ اگر نہ ہو
شبّیر کی دعا ہے کہ تب تک سحر نہ ہو
جب تک نصیب حر کا ادھر سے ادھر نہ ہو
عبّاس کی نگاہ بھی اک ذوالفقار ہے
دشمن جو زیر ہو تو دوبارہ زبر نہ ہو
فرشِ زمین کاٹ کے رکھ دیں ابوتراب
خیبر میں جبرئیل کا شہپر اگر نہ ہو
سرما سمجھ کے آنکھ میں خاکِ شفا لگا
یوسف ترے جمال کا پھیکا اثر نہ ہو
جنّت کے راستے پہ لکھا ہے جگہ جگہ
حیدر کے دشمنوں کا یہاں سے گزر نہ ہو
احمد سے مغفرت کی وہ امید چھوڑ دیں
وہ جن کے پاس اشک عزا کا گہر نہ ہو
بدعت وہی کہے گا عزائے حسین کو
جس کو خدائے سبط ِپیمبر کا ڈر نہ ہو
چاہے زبان کاٹ دی جائے مگر ارم
مدحِ ابو تراب میں کوئی کسر نہ ہو

*ارمؔ مہدی*

🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹


×××××××××

Wednesday, 15 March 2017

سکندر کے ہیں

🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹

👇👇👇👇👇👇👇👇👇

ہم نہ رستم کے، نہ دارا نہ، سکندر کے ہیں
ہم تو مدّاح فقط آلِ پیمبر کے ہیں
صبر سے ظلم کی لہروں کو کچل دیتے ہیں
وہ جو پیراک غمِ شہ کے سمندر کے ہیں
قیمتِ اشکِ عزا کون لگا پائیگا
اصل پانی ہے مگر مثل یہ گوہر کے ہیں
قبر تاریک ہو مومن کی یہ ممکن ہی نہیں
 پہ روشن جو نشاں ماتمِ سرور کے ہیں dil
Haath thak jaayen aflaak ke ginte ginte
Itne is dahr pe ahsaan bahattar ke hain
Wo kabhi majlis e sarwar me nahi ayenge
 نہ الْلہ نہ قرآں نہ پیمبر کے ہیں jo
جب سے عبّاس کے آنے کی خبر پائی ہے
تب سے حالات برے فوج ستمگر کے ہیں
وار کہتا ہے کہ حمزہ کا اثر ہے اس میں
کاٹ کہتی ہے سکھایے ہوئے حیدر کے ہیں
خواب مٹی میں نہ مل جایں کہیں ارزق کے 
آج مضبوط  ارادے گلِ شبْر کے ہیں
سن میں اصغر تو بہت چھوٹے ہیں سب سے لیکن
منزلِ صبر میں اکبر کے برابر کے ہیں
دشمنانِ غمِ سرور کی جگہ دوزخ ہے
یہ  گنہگار جگربند پیمبر کے ہیں
ہم نہ بدلے ہیں ارم، اور نہ کبھی بدلیں گے 
کل بھی حیدر کے رہے آج بھی حیدر کے ہیں.

🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹

ارم مہدی