ٹھنڈا رہے دماغ جبیں تر بتر نہ ہو
ذکرِ علی کرو تو تمہیں دردِ سر نہ ہو
احمد نہ ہوں تو مذہبِ اسلام ور نہ ہو
حیدر نہ ہوں تو جنگ میں فتح و ظفر نہ ہو
اعمال کے درخت پہ کوئی ثمر نہ ہو
دل میں ولائے فاطمہ زہرہ اگر نہ ہو
شبّیر کی دعا ہے کہ تب تک سحر نہ ہو
جب تک نصیب حر کا ادھر سے ادھر نہ ہو
عبّاس کی نگاہ بھی اک ذوالفقار ہے
دشمن جو زیر ہو تو دوبارہ زبر نہ ہو
فرشِ زمین کاٹ کے رکھ دیں ابوتراب
خیبر میں جبرئیل کا شہپر اگر نہ ہو
سرما سمجھ کے آنکھ میں خاکِ شفا لگا
یوسف ترے جمال کا پھیکا اثر نہ ہو
جنّت کے راستے پہ لکھا ہے جگہ جگہ
حیدر کے دشمنوں کا یہاں سے گزر نہ ہو
احمد سے مغفرت کی وہ امید چھوڑ دیں
وہ جن کے پاس اشک عزا کا گہر نہ ہو
بدعت وہی کہے گا عزائے حسین کو
جس کو خدائے سبط ِپیمبر کا ڈر نہ ہو
چاہے زبان کاٹ دی جائے مگر ارم
مدحِ ابو تراب میں کوئی کسر نہ ہو
*ارمؔ مہدی*
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
×××××××××