Friday, 23 June 2017

bhala Hota hai


?عشق جب حد سے گزرتا ہے تو کیا ہوتا ہے
بر سرِ نوکِ سناں ذکر خدا ہوتا ہے

لائقِ سجدئہ معبود وہی بنتا ہے
سر جو شبّیر کی چوکھٹ پہ جھکا ہوتا ہے

لوٹ آتی ہے حبیب ابنِ مظاہر کی حیات
حر کے جیسوں کا اسی در سے بھلا ہوتا ہے

خلق میں مجلس و ماتم کی بہار آتے ہی
زخم شبّیر کے قاتل کا ہرا ہوتا ہے

بام و در خلد کی خشبو سے مہک اٹھتے ہیں
گھر میں جب پرچمِ عبّاس سجا ہوتا ہے

کر گئی دار پہ ثابت یہ زبانِ میثم
عاشقِ حیدرِ کرّار کھرا ہوتا ہے

دوزخِ بغضِ علی دل کو بنا دیتا ہے
جب کسی قوم سے معبود خفا ہوتا ہے

بھول جا شیخ قیامت میں تو روزے کا ثواب
گر ترا فاقئہ عاشور قضا ہوتا ہے

ہالئہ چشمِ عزادار کی عظمت کو سمجھ
سیپ میں درِّ گہربار چھپا ہوتا ہے

کھو گیا شام کی ظلمت میں ترا نام یزید
آج بھی ذکرِ شہِ کرب و بلا ہوتا ہے

Eram Mehdi