Tuesday, 10 April 2018

خیر نہیں

بلا کی خیر نہیں، آندھیوں کی خیر نہیں
 ظلمتوں کی خیر نہیں Jali jo shamme wila

قریب آتے تو ان کے نصیب کھل جاتے
ہمیں پتا ہے وہ محفل میں کیوں نہیں آتے
یہ بزمِ دل ہے یہاں دل جلوں کی خیر نہیں

امیر شام کا تختہ پلٹنے والا ہے
دیار ظلم میں طوفان آنے والا ہے
چٹخ رہے ہیں کنول قمقموں کی خیر نہیں

غرور طالبِ بیعت کچل کے رکھ دے گا
بلا کے  دشت کا نقشہ بدل کے رکھ دے گا
صغیر آیا ہے اب ظالموں کی خیر نہیں

ادھر نجف کی حدیں، ہیں ادھر مدینہ ہے
شہِ ہدا نے بڑی حکمتوں سے گھیرا ہے
یزید آج ترے لشکروں کی خیر نہیں

اے جبرئیل سرِ کوہ ِطور ہی رہنا
جری کی تیغ کے سایے سے دور ہی رہنا
لگی جو ضرب تو اب کے پروں کی خیر نہیں

عتاب چرخ عطش علقمہ پہ ٹوٹ پڑا
یہ کہہ کے شیر صفِ اشقیا پہ ٹوٹ پڑا
ترائی چھوڑ دو ورنہ سروں کی خیر نہیں

Eram Mehdi