Monday, 26 February 2018

تین سال کی

جب بھی ہوئی دماغ میں الجھن کمال کی
ذکرِ شہِ ہدا سے طبیعت بحال کی

فکرِ بشر لطافتِ قرآں کہاں سے لاۓ
کیسے ثنا ہو نقطئہ با  تیرے لال کی

گر آسمان صبر و وفا کی مدد نہ ہو
ہتّے سے ٹوٹ جاہیں پتنگیں خیال کی

sab akhtaraan bazme risalat ye jan len
فردوس ہے بتول کے بدر و ہلال کی

محظوظ ہوں بتول بھی جس کی اذان سے
شیر خدا سے پوچھئے عظمت بلال کی

شافی بھی ہے حیات بھی ہے کیمیا بھی ہے
خاکِ درِ حسین ہے کتنے کمال کی

دیکھا ولا کا نور جو منکر نکیر نے
ہمّت ہوئی نہ قبر میں مجھ سے سوال کی

خیبر میں جو  دکھائی گئی کائنات کو
ہلکی سی اک جھلک تھی علی کے جلال کی

خاکِ شفا میں نور کے ذرّات دیکھ کر
رنگت بدل اتر گئی ہے عبیر و گلال کی

مانگا تھا اک کلام ارم نے خلوص سے
زھرا نے لاج رکّھی ہے دستِ سوال کی

Monday, 5 February 2018

Zinul Eba me hai

باغِ ارم میں ہے ، نہ وہ ملکِ صبا میں ہے
جو دلکشی نجف کی غدیری فضا میں ہے

بغض و حسد کا آنکھ سے پردہ ہٹا کے دیکھ
جو بات مصطفیٰ میں وہی مرتضیٰ میں ہے

سولی سے بھی غدیر کا منظر دکھائی دے
وہ کیف وہ خمار شراب ولا میں ہے

 رٹ رٹ کے کیوں دماغ تھکاتے ہیں شیخ جی
قرآں کا لطف مدحتِ آل عبا میں ہے

بیڑی پہن کے سید سجاد آیے ہیں
لرزش مگر یزید ترے دست و پا میں ہے

سورج کو بھی نصیب نہ ہوگی کسی طرح
وہ روشنی جو گوہرِ اشکِ عزا میں ہے

آبِ سبیل ، پرچمِ عبّاس کی ہوا
اپنا گزر بسر اسی آب و ہوا میں ہے

عشق نبی و آل نبی کا ثمر  ہے یہ
گنجائشِ نجات جو حر کی خطا میں ہے

اتنا سکون دے نہ سکےگی کوئی خوشی 
 جتنا سکون ہم کو غم  کر بلا 

 ماتھے پہ حر کے باندھ کے رومال فاطمہ
بولے حسین جا تو پناہِ خدا میں ہے

محوِ طوافِ پرچمِ شاہِ وفا ہوں میں
اب گردشِ زمین مری اقتدا میں ہے

خاکِ شفا کو منبعِ اکسیر جانئ
دنیا کے ہر مرض کی دوا اس دوا
 
طیبہ سے ہو کے جاتا ہے بیشک رہ جناں 
لیکن کلیدِ بابِ جناں کربلا میں ہے

ارم مہدی