جب بھی ہوئی دماغ میں الجھن کمال کی
ذکرِ شہِ ہدا سے طبیعت بحال کی
فکرِ بشر لطافتِ قرآں کہاں سے لاۓ
کیسے ثنا ہو نقطئہ با تیرے لال کی
گر آسمان صبر و وفا کی مدد نہ ہو
ہتّے سے ٹوٹ جاہیں پتنگیں خیال کی
sab akhtaraan bazme risalat ye jan len
فردوس ہے بتول کے بدر و ہلال کی
محظوظ ہوں بتول بھی جس کی اذان سے
شیر خدا سے پوچھئے عظمت بلال کی
شافی بھی ہے حیات بھی ہے کیمیا بھی ہے
خاکِ درِ حسین ہے کتنے کمال کی
دیکھا ولا کا نور جو منکر نکیر نے
ہمّت ہوئی نہ قبر میں مجھ سے سوال کی
خیبر میں جو دکھائی گئی کائنات کو
ہلکی سی اک جھلک تھی علی کے جلال کی
خاکِ شفا میں نور کے ذرّات دیکھ کر
رنگت بدل اتر گئی ہے عبیر و گلال کی
مانگا تھا اک کلام ارم نے خلوص سے
زھرا نے لاج رکّھی ہے دستِ سوال کی
ذکرِ شہِ ہدا سے طبیعت بحال کی
فکرِ بشر لطافتِ قرآں کہاں سے لاۓ
کیسے ثنا ہو نقطئہ با تیرے لال کی
گر آسمان صبر و وفا کی مدد نہ ہو
ہتّے سے ٹوٹ جاہیں پتنگیں خیال کی
sab akhtaraan bazme risalat ye jan len
فردوس ہے بتول کے بدر و ہلال کی
محظوظ ہوں بتول بھی جس کی اذان سے
شیر خدا سے پوچھئے عظمت بلال کی
شافی بھی ہے حیات بھی ہے کیمیا بھی ہے
خاکِ درِ حسین ہے کتنے کمال کی
دیکھا ولا کا نور جو منکر نکیر نے
ہمّت ہوئی نہ قبر میں مجھ سے سوال کی
خیبر میں جو دکھائی گئی کائنات کو
ہلکی سی اک جھلک تھی علی کے جلال کی
خاکِ شفا میں نور کے ذرّات دیکھ کر
رنگت بدل اتر گئی ہے عبیر و گلال کی
مانگا تھا اک کلام ارم نے خلوص سے
زھرا نے لاج رکّھی ہے دستِ سوال کی