Monday, 5 February 2018

Zinul Eba me hai

باغِ ارم میں ہے ، نہ وہ ملکِ صبا میں ہے
جو دلکشی نجف کی غدیری فضا میں ہے

بغض و حسد کا آنکھ سے پردہ ہٹا کے دیکھ
جو بات مصطفیٰ میں وہی مرتضیٰ میں ہے

سولی سے بھی غدیر کا منظر دکھائی دے
وہ کیف وہ خمار شراب ولا میں ہے

 رٹ رٹ کے کیوں دماغ تھکاتے ہیں شیخ جی
قرآں کا لطف مدحتِ آل عبا میں ہے

بیڑی پہن کے سید سجاد آیے ہیں
لرزش مگر یزید ترے دست و پا میں ہے

سورج کو بھی نصیب نہ ہوگی کسی طرح
وہ روشنی جو گوہرِ اشکِ عزا میں ہے

آبِ سبیل ، پرچمِ عبّاس کی ہوا
اپنا گزر بسر اسی آب و ہوا میں ہے

عشق نبی و آل نبی کا ثمر  ہے یہ
گنجائشِ نجات جو حر کی خطا میں ہے

اتنا سکون دے نہ سکےگی کوئی خوشی 
 جتنا سکون ہم کو غم  کر بلا 

 ماتھے پہ حر کے باندھ کے رومال فاطمہ
بولے حسین جا تو پناہِ خدا میں ہے

محوِ طوافِ پرچمِ شاہِ وفا ہوں میں
اب گردشِ زمین مری اقتدا میں ہے

خاکِ شفا کو منبعِ اکسیر جانئ
دنیا کے ہر مرض کی دوا اس دوا
 
طیبہ سے ہو کے جاتا ہے بیشک رہ جناں 
لیکن کلیدِ بابِ جناں کربلا میں ہے

ارم مہدی

No comments:

Post a Comment