Wednesday, 16 June 2021

Be sada ho jayegi

 مشعلِ حق آگہی نذرِ ہوا ہو جائے گی

رک گیا ماتم تو دنیا بے صدا ہو جائے گی


شام کی تاریکیوں سے نور میں آنے تو دو

دیکھنا یہ قسمتِ حر کیا سے کیا ہو جائے گی


مدحتِ آلِ محمد جا بجا کرتے رہو

بالیقیں دنیا بھی اک دن ہم نوا ہو جائے گی


دل کے ٹکڑوں سے سجائیں گے اسے جس دن حسین

کربلا عظمت میں کعبے سے سوا ہو جائے گی 


معرفت کرب و بلا کی ہوگئی جس دن ہمیں

زندگی آئینۂ صدق و صفا ہو جائے گی


مرکزِ جود و سخا ہے بابِ شاہِ انقلاب

خاک بھی لے آئے کوئی کیمیا ہو جائے گی


 کربلا سایہ فگن ہے جب تلک ہم پر ارم

جو بلا ٹکرائے گی ہم سے فنا ہو جائے گی


ارم مہدی

No comments:

Post a Comment