Wednesday, 16 June 2021

Taranae haidari

 باغ ولاۓ حیدر ہے آستاں ہمارا

ہم بلبلیں ہیں اس کی یہ گلستاں ہمارا


رہتے ہیں لکھنؤ میں دل ہے مگر نجف میں

سمجھو وہیں ہمیں بھی دل ہو جہاں ہمارا


نہر فرات تیری موجوں نے دی سلامی

اترا ترے کنارے جب کارواں ہمارا


لاکھوں سلام عظمت عباس کے علم کو

وہ سنتری ہمارا وہ پاسباں ہمارا


کتنے مٹانے والے دنیا سے مٹ گئے ہیں

اب تک مگر ہے باقی نام و نشاں ہمارا


پل بھر کو بھی نہ چھوڑا ہم نے ولا کا دامن

صدیوں رہا ہے دشمن دور زماں ہمارا


ہیں عاشقوں میں شامل ہم بھی تمہارے مولا

ہندی ہیں ہم وطن ہے ہندوستاں ہمارا


وجہِ سکون و برکت شبیر کی عزا ہے

گلشن ہے جس کے دم سے رشک جناں ہمارا


پیش امام حجت کھل کر بیاں کریں گے

معلوم کیا کسی کو راز نہاں ہمارا





No comments:

Post a Comment