باغ ولاۓ حیدر ہے آستاں ہمارا
ہم بلبلیں ہیں اس کی یہ گلستاں ہمارا
رہتے ہیں لکھنؤ میں دل ہے مگر نجف میں
سمجھو وہیں ہمیں بھی دل ہو جہاں ہمارا
نہر فرات تیری موجوں نے دی سلامی
اترا ترے کنارے جب کارواں ہمارا
لاکھوں سلام عظمت عباس کے علم کو
وہ سنتری ہمارا وہ پاسباں ہمارا
کتنے مٹانے والے دنیا سے مٹ گئے ہیں
اب تک مگر ہے باقی نام و نشاں ہمارا
پل بھر کو بھی نہ چھوڑا ہم نے ولا کا دامن
صدیوں رہا ہے دشمن دور زماں ہمارا
ہیں عاشقوں میں شامل ہم بھی تمہارے مولا
ہندی ہیں ہم وطن ہے ہندوستاں ہمارا
وجہِ سکون و برکت شبیر کی عزا ہے
گلشن ہے جس کے دم سے رشک جناں ہمارا
پیش امام حجت کھل کر بیاں کریں گے
معلوم کیا کسی کو راز نہاں ہمارا
No comments:
Post a Comment