جب تک ہے مرا خامہء ضوبار سلامت
رہ سکتے نہیں شام کے اخبار سلامت
مت بھول خدا وند کا وہ آخری خطبہ
غیبت میں ہے اک حیدرؑ کرار سلامت
ہے سایہ فگن فاطمہؑ زھرا کی دعائیں
سرورؑ کی عزا سے ہے عزادار سلامت
صدقہ پے وہ بےشیرؑ کی ہلکی سی ہنسی کا
ہے جس کے سبب نکہتِ گلزار سلامت
گو الفت حیدرؑ میں زباں کٹ گئ لیکن
میثم کا رہا جذبہء ایثار سلامت
بازار سم بغض علی وہ ہے کے جس میں
تجّار سلامت نہ خریدار سلامت
جنگوں میں بجے جسکے سبب فتح کے ڈنکے
ہیں دامن تاریخ میں وہ وار سلامت
بخشش کی یہی شرط ہے،ھمراعبادت
ہو دل میں غم عترت اطہار سلامت
اس خطبہء زینبؑ نےمحل ایسا اجاڑا
اب نقش سلامت ہیں نہ آثار سلامت
لرزش نہ ارم آۓ کبھی مدح علیؑ میں
تا حشر رہے رفعت افکار سلامت
No comments:
Post a Comment