Wednesday, 16 June 2021

Zaubaar salamat

 جب تک ہے مرا خامہء ضوبار سلامت

رہ سکتے نہیں شام کے اخبار سلامت


مت بھول خدا وند کا وہ آخری خطبہ

غیبت میں ہے اک حیدرؑ کرار سلامت



ہے سایہ فگن فاطمہؑ زھرا کی دعائیں

سرورؑ کی عزا سے ہے عزادار سلامت



صدقہ پے وہ بےشیرؑ کی ہلکی سی ہنسی کا

ہے جس کے سبب نکہتِ گلزار سلامت



گو الفت حیدرؑ میں زباں کٹ گئ لیکن

میثم کا رہا جذبہء ایثار سلامت



بازار سم بغض علی وہ ہے کے جس میں

تجّار سلامت نہ خریدار سلامت


جنگوں میں بجے جسکے سبب فتح کے ڈنکے

ہیں دامن تاریخ میں وہ وار سلامت

بخشش کی یہی شرط ہے،ھمراعبادت

ہو دل میں غم عترت اطہار سلامت



اس خطبہء زینبؑ نےمحل ایسا اجاڑا

اب نقش سلامت ہیں نہ آثار سلامت


لرزش نہ ارم آۓ کبھی مدح علیؑ میں

تا حشر رہے رفعت افکار سلامت

No comments:

Post a Comment